اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے مسائل پر نظر رکھنے والے مبصر محمد نورالدین نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ترکی عالم اسلام کی قیادت کی خواہش رکھتا ہے تو اس کو مسلم اقوام کی خواہشات سے ہمآہنگ ہونا پڑے گا جبکہ ترکی نیٹو کا رکن ہے اور اس کے صہیونی ریاست کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں اور ترکی اور صہیونی ریاست کے درمیان تجارتی مبادلات میں فلوٹیلا کیس کے بعد 35 سے 40 تک اضافہ ہوا ہے۔ انھوں نے کہا: ترک وزیر اعظم نے اپنی جماعتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترکی کے داخلی اور خارجی مسائل کے بارے میں پرانا موقف دہرایا ہے اور کوئی نئی بات نہیں کی ہے لیکن اس کانفرنس سے ثابت ہوا کہ جسٹس اینڈ دیویلپمنٹ پارٹی عالم اسلام کے ایک خاص گروپ "اخوان المسلمین" کے کیمپ میں تبدیل ہوچکی ہے؛ مصر اور فلسطین نیز تیونس سے اخوان المسلمین کے لاتعداد راہنما اس کانفرنس میں شریک ہوئے لیکن یہ سارے اقدامات ترکی کو عالم اسلام کی قیادت سنبھالنے میں مدد نہيں دیتے کیونکہ اگر ترکی قیادت کا خواہاں ہے تو اس کو تمام اسلامی ممالک کے ساتھ یکسان سلوک روا رکھنا پڑے گا اور ان ممالک سے اپنا فاصلہ بھی یکسان رکھنا پڑے گا۔ حالانکہ اردوگان نے اس اصول کو ملحوظ نہيں رکھا ہے۔ فلسطین کے بارے میں بھی اردوگان کا موقف بہت کمزور تھا اور انھوں نے کہا ہے کہ اگر فلوٹیلا کیس میں اسرائیل معافی مانگے تو تعلقات پرانی سطح پر بحال ہونگے؛ انھوں نے غزہ کا محاصرہ اٹھانے کے حوالے سے اپنا پرانا موقف بھی تبدیل کردیا اور اس دفعہ ان کے خطاب میں اس موضوع کی طرف اشارہ تک نہیں ہوا اور غزہ کا مسئلہ مصر کے صدر کے سپرد کردیا [جو اس وقت غزہ کے ساتھ مصر کی سرحدوں پر فلسطینیوں کی بنائی ہوئی سرنگوں کو منہدم کررہے ہیں]۔انھوں نے کہا: اردوگان نے ترکی کے سیاسی نظام کو پارلیمانی سے صدارتی نظام میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے گوکہ کانفرنس میں ان کی تفریر میں اس موضوع کی طرف کوئی واضح اشارہ نہیں تھا لیکن ان کی توقعات یہی ہیں کیونکہ وہ زیادہ سے زیادہ سیاسی اختیارات کے خواہاں ہیں۔ انھوں نے کہا: اس کانفرنس کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اردوگان نے جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کو ایک تنظیم میں تبدیل کیا اور خود کو پارٹی لیڈر یا صدر یا وزیر اعظم کے منصب سے جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے منصوبہ ساز کی حد تک گرادیا تا کہ سنہ 2013 ہی نہیں بلکہ سنہ 2017 تک کے لئے اپنی جماعت کے لئے منصوبہ سازی کرسکیں۔انھوں نے کہا: ترکی میں دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک نظریہ موجود تھا جس کا تعلق جناب اردوگان سے نہیں ہے بلکہ اس کا نظریہ پرداز سابق سیاستدان "زياكروك الب" تھا، یہ نظریہ اسلامی قوم پرستی پر استوار تھا اور آج بھی یہ نظریہ موجود ہے۔
.....
/169-110